آج پھر اس نے فرمائش کی ہے تازہ غزل کی

Poet: syed waqas kashi By: waqas shah, rawalpindi

آج پھر اس نے فرمائش کی ہے تازہ غزل کی
کہ پھر سے اوڑھ لوں میں لفظوں کی چادر
کروں بیاں اس کا تازہ پہناوہ
دھنک کے سات رنگوں سے بنوں لفظوں کی مالا
اور اپنے اندر کے دکھوں کا موسم بھول جاؤں
گلابوں کو آنکھوں کی لالی سے دور دیکھوں
ہجر سے منسلک دل کے گوشے فراموش کر دوں
صدائے ماضی ایک پل کو خاموش کر دوں
تخیل میں چاہتوں کا جادو پھر سے جگاؤں
میں اس سے منسلک سارے بیتے صدمے بھلاؤں
کہوں کچھ ایسا کہ سب کو حیران کردوں
میں اپنے قلم سے اس پتھر کو “جان“کردوں
مگر اس کو یہ جان کر آفسوس ہو گا
“میرے اندر کا شاعر مر چکا ہے“
 

Rate it:
Views: 398
06 Mar, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL