آج کہنے دو مجھے جو نہ کبھی کہہ پایا
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore,Pakistanظلم کا دور اگرچہ نہ کبھی سہہ پایا
آج کہنے دو مجھے جو نہ کبھی کہہ پایا
یہ جو حاکم ہیں ، مرے ملک سے مخلص ہیں کہاں
حال گلشن کا ہے کیا ،طور ہے کیا مالی کا
کس قدر سادہ ہیں اس ملک کے مفلس انساں
جن کو احساس نہیں اپنی زبوں حالی کا
ہیں ابھی تک وہیں آباد گناہوں کے بازار
کیا محض عیش کی خاطر یہ خیاباں مہکا
اپنی بہنوں کو بنایا ہے طوائف کس نے
کس کے قدموں کے لیے ان کا شبستاں مہکا
کیا امیروں کے لیے اس کو بنایا تھا کبھی
کیا یہی پاک وطن ہے ، کیا یہی پاک زمیں
ہم خرابات سے نکلے تو کہاں آ کے رکے
کیا ریا کار نہیں “ شہر فیروزاں“ کے مکیں
ذکر اقبال بلند کرتے ہیں سلطان بہت
فکر اقبال کو پامال کیا ہے کس نے
ہر طرف حرص و ہوس کی ہیں فضائیں رقصاں
اپنی ہی قوم کا یہ حال کیا ہے کس نے
ہم نے تعظیم ہی سیکھی نہیں انسانوں کی
ہم نے دولت کو خدا اپنا بنا رکھا ہے
ہم گرفتار ہیں صرف اپنی ہوس کے ہاتھوں
ہم نے سچائی کو پردوں میں چھپا رکھا ہے
ظلم کا دور اگرچہ نہ کبھی سہہ پایا
آج کہنے دو مجھے جو نہ کبھی کہہ پایا
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






