آجا محبت کی باتوں کو چھیڑیں
Poet: Syed Ishtiaq Hussain Kazmi By: Syed Waqas Shah, RAWALPINDIآجا محبت کی باتوں کو چھیڑیں
وہ دلکش وہ رنگین ساعتوں کو چھیڑیں
کہیں ہم دونوں نکل کر اکیلے
پھر الفت بھری ملاقاتوں کو چھیڑیں
بڑے دن ہوئے چاند اترا کہیں نہ
چل ندیا کناروں کی راتوں کو چھیڑیں
ڈال کر ہاتھ بےجان ہوتے ہیں جن میں
چلو پھر ان نرم ہاتھوں کو چھیڑیں
ہم اک دوسرے کو سنائیں حال دل کا
اور آنکھوں کی دلکش برساتوں کو چھیڑیں
چمکا دیں اشکوں سے پھر داغ دل کے
یوں الفت کی عنایت سوغاتوں کو چھیڑیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






