آخر ان دردوں کی دوا کیا ہے

Poet: جہانزیب کُنجاہی دمشقی By: جہانزیب کُنجاہی دمشقی, gujrat

چھپ چھپ کے دیکھتا کیا ہے
اے دوست بتا تماشا کیا ہے

تیرے ساتھ وفاوں پہ وفائیں کیں
میرے ہمدم پھر یہ گلہ کیا ہے

مداوتیں صد ہزار کی ناکام رہے
آخر اِن دردوں کی دوا کیا ہے

یہ تو مرا عشق ہے اے ماہِ جبیں
تیرے پا کو بوسہ دینے میں بُرا کیا ہے

تیرے،ساتھ نبھانے کے وعدے کہاں گئے
او وعدہ شکن چھوڑنے کا ماجرا کیا ہے

مجھ سے جدا ہوئے اک مدّت گزر گئی
اب بھی لوٹ آوَ ابھی بگڑا کیا ہے

اگر مجھ سے محبت نہیں کرتے جہاں
پھر یہ نینوں میں شکیبا کیا ہے

Rate it:
Views: 484
27 Dec, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL