آخری بار وہ ملا تو چہرے پہ پریشانی تھی

Poet: محمد مسعود By: محمد مسعود , نونٹگھم

آخری بار وہ ملا تو چہرے پہ پریشانی تھی
کردار تھا اِس کا ادنٰی مگر شکل انسانی تھی

وہ چُپ رہا بتایا نہ اِس نے جُدائی کا سبب
شاید اِس نے ساری بات گھر والوں کی مانی تھی

یاد آئی ہے مُجھے اِس کی ایک ملاقات بہت پرانی
وہ دن بھی بہت اچھا تھا وہ رات بھی سُہانی تھی

حیران نہیں ہوں میں اِس کے کسی قول و قرار سے
بے وفائی کرنا تو دُنیا کی رسم بہت پرانی تھی

آگ اور پانی آپس میں دشمن ہیں بہت ازل سے
اِس سے ملنا اور باتیں کرنا شاہد میری نادانی تھی

وہ جدا ہو گیا تو بھی کُچھ نقصان نہیں ہوا مسعود
وہ مل بھی جاتا تو بھی یہ دُنیا تو فانی تھی

Rate it:
Views: 495
14 Jan, 2015
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL