آخری بار وہ ملا تو چہرے پہ پریشانی تھی

Poet: محمد مسعود میڈوز نونٹگھم یو کے By: Mohammed Masood, Nottingham

آخری بار وہ ملا تو چہرے پہ پریشانی تھی
کردار تھا اُس کا ادنیٰ مگر شکل انسانی تھی

وہ چُپ رہا بتایا نہ اِس نے جدائی کا سبب
شاہد اُس نے ساری بات گھر والوں کی مانی تھی

یاد آئی ہے مجھے اُس کی ایک ملاقات
وہ دن بھی اچھا تھا وہ رات بھی سہانی تھی

حیران نہیں ہوں میں اِس کے قول و قرار سے
کیونکہ بے وفائی کرنا دُنیا کی رسم پرانی تھی

آگ اور پانی آپس میں دشمن ہیں ازل سے
اُس سے ملنا باتیں کرنا میری بھی نادانی تھی

وہ جدا ہو گیا تو بھی کچھ نقصان نہیں ہوا مسعود
اگر وہ مل بھی جاتا تو بھی یہ دُنیا تو فانی تھی

Rate it:
Views: 567
26 Aug, 2018
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL