آرزو کی ہے تم کو پانے کی
Poet: شفق By: Shafaq, Lahoreمحبت کا دعوا نہیں کرتے
عشق ہے تم سے سچا
مگر کبھی دکھاوا نہیں کرتے
جان دینے کی بات کرتے ہیں لوگ
ہم ایسا کوئی ڈرامہ نہیں کرتے
مر کر تم کو کھو دیں گے
اس لیے ایسا کوئی اراداہ نہیں رکھتے
آرزو ہے تم کو پانے کی
کوشیش جاری رکھیں گے
ملو گے تم ہم کو
اس یقین کو خود پر حاوی رکھیں گے
ہار دیں گے دنیا مگر
ہار جایں تم کو کبھی
ایسا خیال نہ دل میں رکھیں گے
شفقمحبت کا دعوا نہیں کرتے
عشق ہے تم سے سچا
مگر کبھی دکھاوا نہیں کرتے
جان دینے کی بات کرتے ہیں لوگ
ہم ایسا کوئی ڈرامہ نہیں کرتے
مر کر تم کو کھو دیں گے
اس لیے ایسا کوئی اراداہ نہیں رکھتے
آرزو ہے تم کو پانے کی
کوشیش جاری رکھیں گے
ملو گے تم ہم کو
اس یقین کو خود پر حاوی رکھیں گے
ہار دیں گے دنیا مگر
ہار جایں تم کو کبھی
ایسا خیال نہ دل میں رکھیں گے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






