آرزوؤں کا بھلا کرتے ہو تم
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیابندشوں سے پھر رہا کرتے ہو تم
آرزوؤں کا بھلا کرتے ہو تم
رشک کرتے ہیں زمین و آسماں
جب بھی ذکرِ مصطفے کرتے ہو تم
درد دل کا ساتھ ہے لیکن یہاں
میرے حق میں ہر دعا کرتے ہو تم
جب محبت نے ہی ٹھکرایا تجھے
کیوں یہ ناحق التجا کرتے ہو تم
شہرِ ہجرت آج بھی ویران ہے
کیوں دریچہ بے صدا کرتے ہو تم
شہر میں دریا بہا کر درد کے
پھر اسی کو راستہ کرتے ہو تم
دوستی ہی جب ستاروں سے نہیں
چاند سے پھر کیوں گلہ کرتے ہو تم
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






