آزمانے آئے گا بس دل جلانے آئے گا
Poet: azharm By: Azhar, Dohaآزمانے آئے گا بس دل جلانے آئے گا
میری شائد ہی سنے کچھ،بس سنانے آئے گا
کہہ گیا تھا، اب نہ آوں گا، کبھی ملنے تُجھے
جانتا ہوں آئے گا، گرچہ ستانے آئے گا
سو رہا ہوں تو جگا کر پوچھتا ہے، سو گئے؟
اور چھل اپنا ہے سونا، کہ جگانے آئے گا
اُس کو ازبر ہیں کئی قصے محبت کے مگر
وہ بھلا کر اپنی الفت کےفسانے آئے گا
ہو بھی لوں ناراض، لیکن کچھ تو مجھ کو آس ہو
رنجشیں ساری بھلا کر وہ منانے آئے گا
روز ملتا ہے نئے حیلے سے وہ اظہر تجھے
آج بھی جانے وہ کیسے، کس بہانے آئے گا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






