آشیانے کا نہیں
Poet: Rasheed Hasrat By: رشید حسرت, کوئٹہکیا دِکھاؤں اہلِ دنیا! دل دِکھانے کا نہیں
دوست سب اچّھے، کسی کو آزمانے کا نہیں
ناز و عشوے کا تمہیں ہے اختیارِ کُل، مگر
جی کے بہلانے کا ہے، دل میں سمانے کا نہیں
ساری پونجی میں نے کر ڈالی تو ہے صرفِ علاج
سچ کہوں مجھ کو افاقہ ایک آنے کا نہیں
کس طرح کے کرب میں گزرے ہیں یہ پینتیس سال
گرچہ وعدہ تھا، اکیلے چھوڑ جانے کا نہیں
کیا ریاست ماں، کہ چھینے سب ذرائع رزق کے
کچھ وسیلہ اب تو روزی کے کمانے کا نہیں
تو نے بھائی! سر پہ تانا ہے تعلق سائباں
کیا کروں اب حوصلہ احسان اٹھانے کا نہیں
کب بکھر جائے نہیں معلوم، آندھی زور پر
گھونسلہ ہے چار تنکے، آشیانے کا نہیں
آج اک لڑکے کی حرکت پر مجھے کہنا پڑا
لاکھ بنتا ہو مگر اچّھے گھرانے کا نہیں
سب نے اپنی استطاعت کا لتاڑا ہے مجھے
پر صِلہ حسرتؔ وفاؤں کا، بتانے کا نہیں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






