آغوش تیری آج بھی ماں ڈھونڈتا ہوں میں
Poet: dr.zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanآغوش تیری آج بھی ماں ڈھونڈتا ہوں میں
تو مجھ سے ہو گئی ہے نہاں ڈھونڈتا ہوں
آئیں ہیں تیرے بعد بھی خوشیاں اگرچہ پاس
لیکن رہا ہوں تیرے لیے میں سدا اداس
وہ قہقہے رہے نہ وہ پہلے سا ہے قرار
یہ زندگی ہے یا کہ مسلسل ہے ایک یاس
تجھ سے کروں آ غم کو بیاں ، ڈھونڈتا ہوں میں
آغوش تیری آج بھی ماں ڈھونڈتا ہوں میں
بچپن مرا لوٹا دے مجھے پھر سے پیار کر
اسکول بھیجنے کے لیے پھر تیار کر
میں ضد کروں تو مجھ کو منا لینا پیار سے
گھر کو چمن بنا دے نئی اک بہار کر
اب ہر جگہ پہ تیرا نشاں ڈھونڈتا ہوں میں
آغوش تیری آج بھی ماں ڈھونڈتا ہوں میں
پڑ تی تھی غم کی دھوپ نہ جس کی دعاؤں سے
محروم ہو چکا ہوں اسی ٹھنڈی چھاؤں سے
آجا لپٹ کے تجھ سے میں رو لوں تو ایک بار
جی بھر کے پیار کر تو لوں ماں تیرے پاؤں سے
تیرا پتا میں پاؤں کہاں ڈھونڈتا ہوں میں
آغوش تیری آج بھی ماں ڈھونڈتا ہوں میں
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






