آغوش يار ميں گريہ ہيں شب كے تارے سبھی
Poet: Neelam By: Neelam, Lahoreكچھ پل جی لو ميرے سنگ اے جان جاں!
شہر دل ميں كل پھر ھم ھوں نہ ھوں
آغوش يار ميں گريہ ہيں شب كے تارے سبھی
اس رات كی صبح نو كل پھر ھو نہ ھو
قصئہ الفت سر محفل كہہ ڈالو اے ديوانو
مے خانے ميں حق كی مے كل پھر ھو نہ ھو
ديدہ تر ميں چھپا ھوا ھے جو اک نام تيرے
بول دو لبوں سے ادا كل پھر ھو نہ ھو
سر شام كيوں بجھاتے ھو دئيے دل ناتواں كے
زندگی كی لو ميں دم كل پھر ھو نہ ھو
ابھی حسيں بانہوں ميں محو خواب ھے چاندنی
نہ جانے چاند كے سنگ چاندنی كل پھر ھو نہ ھو
ميرے كہنے پر محبت ميں راضی با رضا آج تم ھو تو گئے
گر عشق كامل ھو جائے جہاں ميں كل پھر ھم ھوں نہ ھوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






