آلامِ زندگی نے تو کر دی حرام عید

Poet: Rana Hussain By: Rana Hussain, Houston TX

آلامِ زندگی نے تو کر دی حرام عید
کیسے بتاؤں کیسے گذاری ہے شامِ عید

آنسو نہیں ٹہرتے سنبھلتا نہیں یہ دل
کرتی ہوں ٹُوٹے لہجے میں سبکو سلام عید

بانہیں گَلے میں ڈال کے چہرے کو چُوم لوں
ہوجائے میرے واسطے پھر تو دوام عید

ہے خوش کوئی بہت تو کوئی زار زار ہے
کسطرح چل رہا ہے یہاں پر نِظام عید؟

تیرے فِراق میں میری دنیا اُجڑ گئی
نوحے میں ہجر کے بھی میں دونگی پیام عید

تیرے بغیر دل نہیں لگتا کہیں مِرا
تجھ سے بِچھڑ کے کیسے مناؤں میں شام عید

بِن تیرے گویا روح سے ہے جِسم بھی جُدا
گر پاس تم نہیں تو ہے یہ نا تمام عید

شاید مجھے سکون بھی تھوڑا سا مِل سکے
ہونٹوں سے اب ادا جو ہُوا ہے پیام عید

چہرہ حسین باتیں تِری دلنشین ہیں
دیدار تیرا عید ہے تیرا کلام عید

سر کو جُھکا سجدوں میں مانگا فقط تجھے
رعنا نے ہر دعا کی کِیا ہے بَنام عید

Rate it:
Views: 578
30 Jan, 2016
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL