آنا ہے مجھے
Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, کوئٹہاب کسی طور کہیں بھی نہ سمانا ہے مجھے
دل یہ کہتا ہے، ترا دل ہی ٹِھکانا ہے مجھے
جن دیاروں میں رہوں، جیسی فضاؤں میں اُڑوں
پھر اسی پیڑ، اسی شاخ پہ آنا ہے مجھے
کون کہتا ہے ترے من کی نہیں ہے قیمت
ایک سوغات ہے، انمول خزانہ ہے مجھے
یہ جو کچھ لوگ خدا بن کے یہاں قابض ہیں
فن کسے کہتے ہیں یہ ان کو بتانا ہے مجھے
جب میں آیا تھا بہت خوش تھے مِرے بابا، امّاں
اور دنیا سے ابھی لوٹ کے جانا ہے مجھے
جوّا گر ایسا، بچا کچھ بھی نہیں جاں کے سوا
آخری داؤ اسی کو ہی لگانا ہے مجھے
مال کھاؤں میں یتیموں کا، دلوں کو توڑوں
خواب جنّت کا بہرطور سہانا ہے مجھے
لوگ کتنے ہی ملے یوں تو یکے بعد دگر
سب سے پیارا تو مرا دوست پرانا ہے مجھے
میں نے ماں باپ پہ کالج میں دیا لکچر بھی
اور انہیں کو ہی ابھی گھر میں ستانا ہے مجھے
آیا سندیس وہ ملنے کے لیئے آئے گا
سو شکستہ در و دیوار سجانا ہے مجھے
میں نے اک فیصلہ جو خود سے کیا ہے لوگو
اور اب سامنے کو ایک زمانہ ہے مجھے
مانو اوروں کی طرح چاند ستاروں کا کہا
واقعۃً کس نے کہا توڑ کے لانا ہے مجھے
آج پھر حسن کے دربار میں پیشی ہے رشیدؔ
اس پری رخ سے ہی ملنے کا بہانہ ہے مجھے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






