آندھی ہے بڑی تیز دیا رکھ سنبھال کر
Poet: Mohammad Sadiq Mushwani By: Mohammad Sadiq Mushwani, Quettaآندھی ہے بڑی تیز دیا رکھ سنبھال کر
بجھنے نہ دے اسے کوئی ایسا کمال کر
محفل میں سناتے ہو کیوں قصہ درد تم
ملتا ہے کیا کسی کی یوں عزت اچھال کر
اس شہر کے لوگوں میں رہا دل نہیں باقی
دلجوئی کون کرے گا بس خود ہی ملال کر
آنگن میں میرے گرتے ہیں اب روز ہی پتھر
میں کاٹوں گا کسی روز شجر یہ نکال کر
صادق ہر التجا پہ یہی مشورہ ملا
مل جائے گا جواب ذرا خود سے سوال کر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






