آنسو کی قیمت

Poet: ڈاکٹر شاکرہ نندنی By: Dr. Shakira Nandini, Oporto

ان سے نه پوچھو تم
که دنیا والے کیا جانیں
یہ آنسو کب کب بہتےہیں
زندگی کی قیمت کو
ان سے نہ پوچھو تم
که زندگی لینے والے کیا جانیں
زندگی کب کب سہتی ہے
آنسووں کی قیمت کو
ہم سے گر پوچھو تو
ہم یہ بتا دیں گے
آنسو کی قیمت تو فقط آنسو ہی ہیں
جو انمول ہوتے ہیں
زندگی کی قیمت کو
ہم سے گر پوچھو تو
ہم یہ بتا دیں گے
زندگی کی قیمت تو زندگی نہیں ہوتی
موت بھی نہیں ہوتی
زندگی تو زندگی ہے
ایک بار ملتی ہے
یہ ہی اک حقیقت ہے
جس کو ہم نے جانا ہے
آنسووں کی قیمت کو
بھلا تم کیا سمجھو گے

Rate it:
Views: 881
09 Nov, 2018
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL