آنچ
Poet: Hukhan By: Hukhan, karachiآؤ دھیمی سی آنچ پر جل کر دیکھتے ہیں
ہو کر فنا جی کر دیکھتے ہیں
آؤ اس پر مر کر دیکھتے ہیں
بڑی بڑی ہیں آنکھیں
ان میں ڈوب کےدیکھتے ہیں
کم سن سی عمر اس پر بھرم
خود کو جھکا کر دیکھتے ہیں
لبوں پر ان کے غضب کی مسکان
یہ ستمِ جان سہہ کر دیکھتے ہیں
دسمبر بھی ہوا جلا جلا سا
آتشِ حسن کو اپنا کر دیکھتے ہیں
کرتے ہیں حسنِ خیراں کو ذرابرہم
ان کے گال گلاب کرکے دیکھتے ہیں
سراپاِ قیامت ہوشربا
آج ہمتِ مرداں کرکے دیکھتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






