آنکھ
Poet: waleed ahmad By: M.WALEED, Islamabadیہ آنکھیں کيسے کيسےخواب بنتی ہیں
کيسے کيسے موتی چنتی ھيں
مگر آنسو بھی ان کا نصيب ھوتے ھيں
جو موتی بڑی محبت سے چنے جاتے ھيں
وہ آشکوں کی صورت بہا ديئے جاتے ھيں
مگر جو لوگ زندگی کی ماند ھوتے ھيں
وہی آنکھيں پھير جاتے ھيں
ان آنکھوں ميں کيسے کيسےپھول کھلتے ھيں
مل کر بھی کچھ لوگ نہیں ملتے ھيں
ان آنکھوں کے خواب تتليوں کی ماند ہوتے ھين
مگر کچھ لوگ ان خوابوں کے رنگ چھین لیتے ھيں
بدنوماں خواب چھوڑ جاتے ھيں
خود اپنی زندگی ميں بہت خوش رهتے ھيں
مگر ان آنکھوں کو اداس چھوڑ جاتے ھيں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






