آنکھ جب سے ہے ترے ساتھ ملائی جاناں
Poet: Khalid Roomi By: KHALID ROOMI, Rawalpindi آنکھ جب سے ہے ترے ساتھ ملائی جاناں
ہو گئی اپنی عدو ساری خدائی جاناں
دشت غربت میں لٹی میری کمائی جاناں
روز و شب دیتا پھروں اب میں دہائی جاناں
جس طرف آنکھ اٹھاؤں ترے جلوے دیکھوں
اللہ اللہ ، مرا اوج رسائی جاناں
کھل گیا بھید ترے جور و ستم کا سارا
تو نے محفل میں جو آنکھ آج چرائی جاناں
تم نے ہوتے ہی جواں بدلی نگاہیں کیوں کر ؟
نخوت حسن تمھیں کس نے سکھائی جاناں ؟
پس مردن بھی کسی طور نہ پاؤں گا نجات
نہیں ممکن تری زلفوں سے رہائی جاناں
گھر سے صحرا کو ، گئے دشت سے ہم دار کی سمت
تیری الفت نے عجب راہ دکھائی جاناں
آج قابو میں نہیں کیوں یہ مرے ہوش و حواس
ساغر چشم سے کیا شے ہے پلائی، جاناں
تیرا مجنوں ہی تو تھا جس نے بھری دنیا میں
دشت در دشت یہاں خاک اڑائی جاناں
ہائے ! اس روز سر بزم قیامت ہو گی
رخ سے چلمن جو کبھی تو نے ہٹائی جاناں
تیری نسبت کے سبب دھوم مچی ہے میری
ہے ترا فیض ، مری شعلہ نوائی جاناں
وجد صوفی کو نہ آئے سر محفل کیوں کر ؟
مطرب دل نے غزل کیسی سنائی جاناں
اس کو معراج محبت کا شرف جانوں گا
کاش مل جائے ترے در کی گدائی جاناں
ناخن پا کے ہی صدقے ہو عنایت کی نظر
میری ہو جائے گی بس عقدہ کشائی جاناں
وہ ترے رومی ء خستہ کے سوا اور ہے کون ؟
جس نے دنیا میں ہے لو تجھ سے لگائی جاناں
ارے چین ایسا کہ ناراض کرے رب کو کیسی راحت
نگا ہ زن تیری راحت، بدن تیری محبت ہے
عجب پالے محبت تو عشق بس نام کی سنگت
عجب عورت تیری بول چاری دیکھی میں نے جگ بھر میں
وصال مرد اچھا نہ ، کر ے کیوں گفتگو الفت
وصال مرد زن گر ہے محبت تو سنو یہ پھر
ملے نہ گر بدن تو رکھے کیوں الفت کی جا نفرت
ہے قال تم فراق تم سے جائے جاں میری ہائے
پریشاں گر ہو محبوب دور نہ کرتے اس کی تم زحمت
محبت خاکؔ طیبؔ یہ پیش خدمت جاں ہو چاہ کے
پیش محبو ب سب کچھ تم کرو گر نہ، نہیں الفت
اُن کی راہوں میں دُعاؤں کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِن کے بَچوں کو دِیا نام، سَہارا، مَنزِل،
اَپنی قِسمَت کی بھی ہَم نے تو گِرانی رَکھ دِی ۔
ہَم دِیّارِ غَیر میں تَنہا ہی لَڑتے رَہ گئے،
اور اُنہوں نے فَقط مَطلَب کی کَہانی رَکھ دِی ۔
گھر بَنایا تھا جِسے سَایۂ اِخلاص سَمجھ،
وَقت آیا تو اُسی گھر نے وِیرانی رَکھ دِی ۔
دَرد اِتنا ہے کہ اَب شِکوَہ بھی مُشکِل لَگتا،
زِندگی نے لَبِ اِظہار پہ پانی رَکھ دِی ۔
مَظہرؔ اِحسان کا بَدلہ نہ سَہی، یاد ہی رَکھ،
کُچھ تو رِشتوں نے وَفادارِی کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِنہیں اَپنا سَمجھا، وُہی یہ کَہہ کے ہَنس دِیے،
حاجی صَاب لُوسدِیاں رَہنا اِیں
بَس اِتنی مِہربانی رَکھ دِی
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا






