آنکھ میں اشکوں کی بارات لیۓ پھرتا ہوں
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiآنکھ میں اشکوں کی بارات لیۓ پھرتا ہوں
اپنے اندر کئ صدمات لیۓ پھرتا ہوں
زخم سے چور بدن, چاک یہ سینہ میرا
دوستوں کی میں عنایات لیۓ پھرتا ہوں
جن کی وقعت نہ رہی ہے صفِ یاراں میں کبھی
میں وہ مجروح سے جذبات لیۓ پھرتا ہوں
جتنے بھی زخم دیۓ مجھ کو مرے اپنوں
آج بھی ان کے نشانات لیۓ پھرتا ہوں
اس لیۓ بھی تو کسی کو میں نہیں بھاتا ہوں
میں جو ہر کام میں اوقات لیۓ پھرتا ہوں
اس نے اک بار جو جی بھر کے دیا تھا دیدار
عمر بھر وہ ہی ملاقات لیۓ پھرتا ہوں
مجھ کو ہر در سے نۓ زخم ملے ہیں باقرؔ
عشق کے بعد یہ خیرات لیۓ پھرتا ہوں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






