آنکھ میں سمانے لگا ھے وہ
Poet: Shabeeb Hashmi By: Shabeeb Hashmi, Al-Khobar K.S.Aیوں خواب بن کے آنکھ میں سمانے لگا ھے وہ
امیدوں کے نئے چراغ پھر جلانے لگا ھے وہ
میری محبتوں کا امیں وہ اس طرح ھوا
آنچل بنا کے سر پہ مجھے سجانے لگا ھے وہ
پھولوں سے بھر دئیے ہیں منزل کے راستے
سلسلہ ا ک نئے سفر کا دکھانے لگا ھے وہ
سانسوں میں اپنی اسکی میں خشبؤ سمیٹ لوں
آنکھوں میں بن کے جگنو جگمگانے لگا ھے وہ
الفاظ اس کے ھونٹوں کے گیتوں میں ڈھل گئے
میرے لکھے ہوئے شعروں کو گنگنانے لگا ھے وہ
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






