آنکھ ہو تو برا بھلا دیکھے

Poet: صدیق فتح پوری By: Aqib, Abbottabad

آنکھ ہو تو برا بھلا دیکھے
بے بصر آئنے میں کیا دیکھے

زندگی کی حسین راہوں میں
کربلا ہم نے جا بجا دیکھے

اندھا ساون کا ہو تو چاروں طرف
کوئی رت ہو ہرا بھرا دیکھے

اس کو آئے گا معجزہ ہی نظر
عقل سے جو بھی ماورا دیکھے

خوشبوؤں کی بہار سے عاری
پھول کاغذ کے خوش نما دیکھے

بے عمل کو ہمیشہ دنیا نے
خواب ہی دیکھتے سدا دیکھے

بھولتا ہی نہیں وفا پیکر
بارہا ہم اسے بھلا دیکھے

منزلیں ڈھونڈھتی رہیں جن کو
ہم نے ایسے بھی رہنما دیکھے

ایک ہی چہرہ ہے مگر صدیقؔ
رنگ ہائے جدا جدا دیکھے

Rate it:
Views: 478
01 Nov, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL