آنکھوں سے اپنی ایک نظر دیکھ لیجیے
Poet: By: AB shahzad, Mailsiآنکھوں سے اپنی ایک نظر دیکھ لیجیے
ہے عشق کا خمار اثر دیکھ لیجیے
رہتا کہاں ہے وقت سدا ایک جیسا سب
حالات نے جدا دیا کر دیکھ لیجیے
لاکھوں میں ایک ہے یہ حسیں چہرہ ہے زیبا
اچھا لگے گا آپ ادھر دیکھ لیجیے
ہے میک اپ کا سارے کا سارا کمال سب
کیا خوب ہے سجایا ہنر دیکھ لیجیے
ہے ننگِ قافلہ یہ حسیں چہرہ ہی مگر
پھرتا ہوں اب نگر ہی نگر دیکھ لیجیے
رہتے ہو رات دن مری ہروقت سانسوں میں
کتنا ہے پیار جان جگر دیکھ لیجیے
شہزاد پیار کی ہے نشانی یہ خوش رہو
تیرے لیے خریدا ہے گھر دیکھ لیجیے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






