آنکھوں میں اب نمی نہیں ہوتی
Poet: Fazlul Hasan By: F.H.Siddiqui, Lucknow آنکھوں میں اب نمی نہیں ہوتی
کیفیت شبنمی نہیں ہو تی
آزمائے طبیب دل سا ر ے
درد دل میں کمی نہیں ہو تی
اور رہتے ذرا وہ پہلو میں
گر یہ با ر ش تھمی نہیں ہوتی
بات کرتے جو صاف دل سے تم
لہجے میں بر ہمی نہیں ہو تی
اچھا ہوتا اگر یہ خود غر ضی
خصلت آ د می نہیں ہو تی
کرنا ہے تو سدا نبھا ؤ بھی
دوستی مو سمی نہیں ہو تی
کوئ ہستی بجز خدا کے حسن
با خد ا د ا ئمی نہیں ہو تی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






