آنکھوں میں بسی ہے تصویر
Poet: UA By: UA, Lahoreآنکھوں میں بسی ہے تصویر تمہارے وجود کی
اس دل میں بھی نقش ہے شبیہ تمہارے وجود کی
میرا سراپا تمہارے بغیر ظاہر ہو یہ ممکن نہیں
یہ روح خاکستری محتاج ہے تیرے وجود کی
دوری میں بھی تمہاری قربت محسوس کرتی ہے
روح میں جو سمائی ہے ہستی تمہارے وجود کی
ایسا نہیں تم آؤ اور میں تمہیں دیکھ نہ پاؤں
محسوس نہ کروں جھلک تمہارے وجود کی
چہرہ چھپا کے پاس سے گزرے تو ہو مگر
خوشبو کہیں نہ چھپ سکی تمہارے وجود کی
میرے احساس نے تمہیں محسوس کر ہی لیا
اطراف میں مہک در آئی تمہارے وجود کی
میں تم کو نہیں جانتی یہ تم نے کیا کہا
ہر رمز سے واقف ہوں تمہارے وجود کی
عظمٰی تمہاری ذات میں ہم ایسے کھو گئے ہیں
خود ہم نے بھولا دی شکل ہمارے وجود کی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







