آنکھوں میں کاجل
Poet: By: Khalid Pervez, Pasrur,Saukin Windآنکھوں میں کاجل کانوں میں جھمکے
تن من سجایا ہے کس کے لئے
یوں تیرا سنورنا ٹھیک نہیں
پردہ رخ سے ہٹایا ہے کس کے لئے
کس کی رغبت سے ہے آج کرن بنی
کس کی رغبت کا ہے احترام ہوا
چاند تارے فلک پہ جو ماند ہوئے
حسن شعلہ جلایا ہے کس کے لئے
ہواؤں کے جلوے ہوئے ہیں بےبس
درختوں کے پتے بھی سب گر گئے
ہر سو نظارے خزاؤں کے ہیں
گل گیسوؤں میں کھلایا ہے کس کے لئے
کچھ اجتناب کرو ابصال سے
حرف بےمروت بھی ٹھیک نہیں
اخلاص عہد نہیں رہتا باوقار
رنگ مہندی لگایا ہے کس کے لئے
ہم تیری جستجو میں تنہا رہے
باب بند رہا تیرے دیار کا
سرخ جوڑے میں اپنا شباب لئے
گھر سے باہر تو آیا ہے کس کے لئے
تیرا نصیب ہے ہجر کا غم
در الفت سے اب تو ہٹ بھی جا
کہہ دو خالد سے اب نہ کہے
رنگ پیار کو چڑھایا ہے کس کے لئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






