آنکھوں میں کرے رقص
Poet: Kaiser Mukhtar By: Kaiser Mukhtar, Hong Kongمیخانہ جس طرح تری آنکھوں میں کرے رقص
اے کاش یہ دیوانہ تری بانہوں میں کرے رقص
ہلچل مچائے سینے میں ترے لبوں کا تھر تھرانہ
ہلیں لب ترے جیسے کنول لہروں میں کرے رقص
اپنا تو وطیرہ ہے یہی غم میں بھی مُسکراؤ
زیرپا جیسے رقاصہ کوئی زنجیروُںمیں کرے رقص
تیرے بولنے سے ہلچل ہوئی فضا میں چار سوُ
ساری دُنیا تری شہد بھری باتوں میں کرے رقص
بس گئی تصویر تری ان آنکھوں میں اس طرح
تیرا سایہ مرے کمرے کی دیواروں میں کرے رقص
آئے تو میرے رُو برُو تو لگے ہے اس طرح
جیسے درد بھی مرے دل کے زخموُں میں کرے رقص
جھومے تیرے خیال کی رعنائیوں سے دل
پھولوں بھری ٹہنی جیسے بہاروں میں کرے رقص
لے کے دل میں سمندر سے ملنے کی جُستجُو
پانی کس آب و تاب سے آبشارُوں میں کرے رقص
محبُوب خدا کا دل بھی لبھانے کو د یکھئے
پری در پری جنت کے چناروں میں کرے رقص
داستان درد و غم چنگ و رباب عیش و نشاط
ہر فسانہ و کہانی ابجد کے حرفوں میں کرے رقص
خوشبو تو اڑ گئی اکیلی رہ گئیں کلیاں
پھر کس طرح سے پھول کتابوں میں کرے رقص
وہ حقیقی خوشی انساں کو میسر ہے کہاں
کہ مور جس طرح سے جنگلوں میں کرے رقص
ُ
وہی حشر ہوگا نوع انساں کا بھی کبھی
چیلنجر جس طرح سے خلاؤں میں کرے رقص
ہے قائم حیات جس سے زیر حرارت ہے کائنات
قیصر وہ خون دل کے خانوں میں کرے رقص
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






