آنکھوں کی زباں نہ سمجھے کوئی
Poet: nahid By: nahid alam, karachiآنکھوں کی زباں نہ سمجھے کوئی
لب کھلنے تلک نہ ٹہرے کوئی
ھر شخص کو ہے منزل کی جستجو یہاں
ھمسفری کی آس پر نہ بھٹکے کوئی
کب تک ریگزار حیات میں تنہا بھٹکتے ہم
نہ تھا نخلستاں کوئی نہ سائیباں کوئی
کیسے آتا یقین ساتھ چلو گے عمر بھر
نہ ہی کیا اقرار وفا کا نہ ہی وعدہ کوئی
مانا کہ تجھ میں تھیں خوبیاں بیشمار
تو تھا دل سے ہمارا یقین دلاتا کوئی
نادان دل کی بات ہم مان ہی لیتے
عقل کو گر چرا لے جاتا کوئی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






