آنکھیں
Poet: M.Asghar Mirpuri By: M.Asghar Mirpuri, Birminghamمجھے دیوانہ کر گئیں اس کی مخمور آنکھیں
زندگی بھر نا بھولیں گی وہ نشے سے چور آنکھیں
تیری آنکھوں کا خمار ایک دن لے ڈوبے گا
مجھے یہ لگتی ہیں صورت حور آنکھیں
میرے پاس ہوتیں تو پیار سے انہیں چوم لیتا
مگر مجھ سے ہیں وہ بہت دور آنکھیں
میرے پیار کی تیری نظر میں قدر ہی نہیں
مگر میرے دل کا تو ہیں سرور آنکھیں
تیرے پیار میں گمنامی کے سوا کچھ نا ملا
اپنے سخن سے کر دوں گا تیری مشعور آنکھیں
اصغر کی اپنے رب سے یہی التجا ہے
کہ کسی انسان کی کبھی نا ہوں بےنور آنکھیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






