آنکھیں
Poet: ISHTIAQ KAZMI By: WAQAS SHAH, rawalpindiآنکھیں آنکھیں قرار آنکھیں ہیں
دل جگر آر پار آنکھیں ہیں
حسن و رعنائی اور کیا کہنا
تیری صورت بھی یار آنکھیں ہیں
بارہا دل کو توڑ کر دیکھا
بارہا بار بار آنکھیں ہیں
بے قراری میں بھی قرار آئے
منتظر انتظار آنکھیں ہیں
ہر ادا کی طرح یہ بھاتی ہیں
ہائے تیری فنکار آنکھیں ہیں
غم کی شمعیں بجھ گئیں ساری
بن گئی روزگار آنکھیں ہیں
دل کی وادی میں دلکشی کے لیے
گل و خوشبو بہار آنکھیں ہیں
زندگی کا وجود ہیں آنکھیں
موت کا تختہ دار آنکھیں ہیں
اک غموں کا وسیع سمندر ہیں
خوشی کا اظہار آنکھیں ہیں
اشتیاق تو نے ڈوب کر بھی نہ جانا
تیرا اب بھی اعتبار آنکھیں ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






