آنکھیں
Poet: ranaashfaqqaiser By: ranaashfaqqaiser, mianwaliکسی کی یاد میں اکثر برستی ہیں میری آنکھیں
وہ چہرہ جاں فزا جس کو ترستی ہیں میری آنکھیں
میںتنہا زیست کی راہوں میں چلنے کا نہیں قائل
وہ میرا ہم سفر ہو جس کو تکتی ہیں میری آنکھیں
تو کوئ لعل و گوہر ہے کہ تیری خاطر میرے ہمدم
اصکوں کے سمندر میں اترتی ہیں میری آنکھیں
کبھی اس دیدہ نم کو بھی آکر چوم لے ظالم
تیری خاطر تو مدت سے سنورتی ہیں میری آنکھیں
بہت ہی خوبصورت ہے خیال کا منظر
تصوف کے مراحل سے گزرتی میری آنکھیں
انہیں پلکوں کے سائے میں بٹھالیں جی تو چاہتا ہے
مگر صام و سحر قیصرچھلکتی ہیں میری آنکھیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






