آنکھیں
Poet: صبا تاجر By: Saba Tajir, Karachiبھلائے نہیں بھولتی وہ یادیں تمھاری
وہ لہجہ تمھارا، وہ آنکھیں تمھاری
چلی آتی ہیں نیند میں دستک دے کر
خوابوں میں آنے کی وہ باتیں تمھاری
وہ کہنا مجھ کو نہ بھول سکو گے کبھی
مجھ پہ مر مٹنے کی وہ ادائیں تمھاری
جی رہے ہو تنہا تم بھی اپنی انا میں
کہو کٹتی ہیں کیسے راتیں تمھاری
چھوڑ گئے تھے جن کے واسطے ہمیں
کہو کیسی ہیں وہ دلربائیں تمھاری
نکلا نہ کرو یوں سر راہ کہ اب
آئیں گے لینے کیسے بلائیں تمھاری
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






