آنکھیں شاعری
Poet: کنول ملک By: محمد رضوان, Quettaروبرو پھر سے اس کی آنکھیں تھیں
پھر سے مشکل میں یہ مرا دل تھا
اس سے اظہار کر سکی نہ میں
جو مری شاعری کا حاصل تھا
جو مسیحا تھا میری بستی میں
اک وہی شخص میرا قاتل تھا
اس کی آنکھوں کا دوش تھا سارا
روح چھلنی تھی دل بھی گھائل تھا
اس کو فرصت نہیں تھی سننے کی
حال کہنا بھی اس سے مشکل تھا
نہ میں بولی نہ اس نے پوچھا کچھ
میں بھی ضدی تھی وہ بھی پاگل تھا
دل پہ رکھتا وہ ہاتھ سن لیتا
وہ مری دھڑکنوں میں شامل تھا
نیم شب میں تھا وہ دعاؤں میں
تر بہ تر آنسوؤں میں آنچل تھا
میری آنکھیں بھی پڑھ سکا نہ وہ
ہائے وہ شخص کتنا پاگل تھا
اس کے ہاتھوں میں تھی شفا لیکن
درد میرا ہی اب مسلسل تھا
پھر مرا مسئلہ ہی ایسا تھا
میری مشکل کا ایک ہی حل تھا
بھول جاتی اسے کنولؔ لیکن
بھول جانا بھی اس کو مشکل تھا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






