آنکھیں گیلی ہو جاتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔
Poet: zeest.sun By: zeest.sun, u a eاور تو سب کچھ ٹھیک ہے لیکن
آپ کا سرد رویہ دیکھ کے
آنکھیں گیلی ہو جاتی ہیں
ہجر کا چولہ پہنا جب سے
دکھ کے باب کو کھولا تب سے
چند سطریں ہی پڑھ کے اب تو
آنکھیں گیلی ہو جاتی ہیں
دھیرے دھیرے ہم نے جانا
خواب نگر میں کبھی نہ جانا
تنہائ جب مل جائے تو
آنکھیں گیلی ہو جاتی ہیں
دل میں جانے کیا ہے سب کے
کیسا موسم آیا اب کے
سبز رُتیں بھی اکژ اب تو
زرد اور پیلی ہو جاتی ہیں
آنکھیں گیلی ہو جاتی ہیں
دل کو جب بوجھل پاتے ہین
جھیل کنارے ہم جاتے ہیں
یادوں کی اُس جھیل میں اب تو
کنکر پھینک کے خوش ہوتے ہیں
جھیل سی آنکھیں دُکھ سے اب تو
گہری نیلی ہو جاتی ہیں
آنکھیں گیلی ہو جاتی ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






