آنکھیں ہو جاتی ہیں، نم کبھی کبھار۔۔۔۔
Poet: طارق اقبال حاوی By: Tariq Iqbal Haavi, Lahoreلیتے ہیں دل پہ جب تیرا، غم کبھی کبھار
آنکھیں ہو جاتی ہیں، نم کبھی کبھار
پھر ہو جاتی ہے اپنی،اک عجب ہی حالت
پھر گھٹنے سا لگتا ہے، اپنا دم کبھی کبھار
دِکھنے میں کبھی کوئی نہیں، بیوفا ہوگا
مت کرنا اعتبار ایسا، جو باعثِ سزا ہو گا
بُرا نہیں عاشقی میں اُٹھانا، قدم کبھی کبھار
جان بوجھ کے تو نہیں خود کو، ہوں بیوفا کہتا
یہ دردِ رسوائی ، جانے کیسے ہوں سہتا
رکھنا پڑتا ہے کچھ لوگوں کا، بھرم کبھی کبھار
میں تو یہی کہوں گا، اجنبی رہنا
کسی کے خود بننا، نہ کسی کو اپنا کہنا
کر دیتے ہیںزخم گہرا، مرہم کبھی کبھار
روتا ہوں تیری یاد میں ، شدت سے جس رات
بادل بھی برابر میں، برساتے ہیں برسات
بانٹتا ہے دُکھ حاوی کا، موسم کبھی کبھار
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






