آنکھیں ہو جاتی ہیں، نم کبھی کبھار۔۔۔۔

Poet: طارق اقبال حاوی By: Tariq Iqbal Haavi, Lahore

لیتے ہیں دل پہ جب تیرا، غم کبھی کبھار
آنکھیں ہو جاتی ہیں، نم کبھی کبھار

پھر ہو جاتی ہے اپنی،اک عجب ہی حالت
پھر گھٹنے سا لگتا ہے، اپنا دم کبھی کبھار

دِکھنے میں کبھی کوئی نہیں، بیوفا ہوگا
مت کرنا اعتبار ایسا، جو باعثِ سزا ہو گا

بُرا نہیں عاشقی میں اُٹھانا، قدم کبھی کبھار
جان بوجھ کے تو نہیں خود کو، ہوں بیوفا کہتا

یہ دردِ رسوائی ، جانے کیسے ہوں سہتا
رکھنا پڑتا ہے کچھ لوگوں کا، بھرم کبھی کبھار

میں تو یہی کہوں گا، اجنبی رہنا
کسی کے خود بننا، نہ کسی کو اپنا کہنا

کر دیتے ہیںزخم گہرا، مرہم کبھی کبھار
روتا ہوں تیری یاد میں ، شدت سے جس رات

بادل بھی برابر میں، برساتے ہیں برسات
بانٹتا ہے دُکھ حاوی کا، موسم کبھی کبھار

Rate it:
Views: 517
09 May, 2016
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL