آو سوچیں کہیں دیر ناں کر دیں
Poet: Shabeeb Hashmi By: SHABEEB HASHMI, Al-Khobarگزرے کل کی سب باتوں کو
بھول کے اب نئی سوچ اپنائیں
آج کیا کرنا آج ہی سوچیں
آنکھوں پہ پہرے
یہ مت دیکھو
ہونٹوں پہ پہرے
یہ مت بولو
ہاتھوں پہ پہرے
یہ مت لکھو
پر سوچوں کو آزادی ہے
سوچ پہ کوئی پہرہ تو نہیں
آو مل کر ھم سب سوچیں
آنے والے مستقبل کو
کیسے ھم محفوظ کریں
جان بچاتی ان سوچوں کو
کیسے ھم محسوس کریں
آؤ سوچیں اپنے وطن کو
کونسی ھم تحریک دلائیں
بھوک اور نفرت کی وادی میں
کیسے پیار کے پھول کھلائیں
غم کی چادر کو غربت سے
کیسے ھم دور ہٹائیں
آؤ سوچیں ھم سب مل کر
دکھتی آنکھوں میں ھم کیسے
خوشیوں کے پھول کھلائیں
درد میں ڈوبی آوازوں کو
کیسے سکھ کے گیت سکھائیں
غربت اور افلاس کے ماروں کو
کیسے اپنا رفیق بنائیں
بھولے بھٹکے ان لوگوں کو
کیسے سچ کی راہ دکھائیں
اندھیروں میں ڈوبے ان آنگن میں
کیسے مسرت دیپ جلائیں
آؤ سوچیں
کہیں دیر نہ کر دیں
ظلم کی دیوار کہیں بڑھ نہ جائے
لالچ کا ناگ کہیں ڈس نہ جائے
خون میں فریب کہیں بس نہ جائے
روز قیامت کہیں آ ناں جائے
ظالم کو ھم آئینہ دکھلائیں
اپنی ہستی خود ہی بڑھائیں
حق اور سچ کا ساتھ نبھائیں
بچھڑے ہوؤں کو پھر سے ملائیں
آؤ سوچیں
ملکر سوچیں
آؤ سوچیں
کہیں دیر نہ کر دیں
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کسی سے خود کو مگر کم نہیں بنائیں گے
ہمارے عہد میں ہر سو محبتیں ہوں گی
خزاں کا ہم کوئی موسم نہیں بنائیں گے
ہم ایک نقشہ بنائیں گے سارے ملکوں کا
کسی بھی ملک کا پرچم نہیں بنائیں گے
ہم اپنے علم سے مرہم بنائیں گے لیکن
ہم اپنے علم سے ایٹم نہیں بنائیں گے
ہماری سانس کو عادت نہ ہونے لگ جائے
کبھی بھی ہم کوئی ہمدم نہیں بنائیں گے
کبھی نہ راستہ روکیں گے جانے والوں کا
کہیں پہ چشمۂِ زم زم نہیں بنائیں گے
کسی سے دور بھی رہ کر خوشی سے جی لیں گے
کسی کی زیست جہنم نہیں بنائیں گے
جو دل کی صداؤں کی گہرائی ہے، وہی ہے۔
جو ہر گام پر ہے چراغِ نظر
مسافت میں رہتی جو بینائی ہے، وہی ہے۔
نہ پوچھو کہ کیسے وہ دل میں بسا ہے
کہ جذبوں کی ہر ایک رسوائی ہے، وہی ہے۔
کبھی ایک آہٹ، کبھی ایک خوشبو
یہ دنیا جو دل میں بس آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو خیالوں میں اکثر سنواروں
جو خوابوں میں چپکے سے آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو دعاؤں میں اکثر پکاروں
مرے لب پہ ہر دم جو آئی ہے، وہی ہے۔
نہ چاہا کسی اور کو اس طرح سے
محبت کی میری جو سچائی ہے، وہی ہے۔
کہا جس کو میں نے کبھی زندگی
وہی میری سب کچھ، خدائی ہے، وہی ہے۔
وہی روشنی ہے، وہی خواب سا ہے
مری ہر نگاہوں کی بینائی ہے، وہی ہے۔
سنو لوگو! جس نے مجھے جان بخشا
مرے دل میں مظہر جو چھائی ہے، وہی ہے۔






