آپ سے کیا جدا ہوا ہوں میں

Poet: Farrukh Izhar By: Farrukh Izhar, Karachi

آپ سے کیا جدا ہوا ہوں میں
اک اذیت میں مبتلا ہوں میں

راہ یہ کس طرف کو جاتی ہے
بے خطر جس پہ چل پڑا ہوں میں

ہے وہ عالم کہ حال بھی اپنا
اب تو اوروں سے پوچھتا ہوں میں

اس نے اک بار تھا چھوا مجھ کو
اور اب تک مہک رہا ہوں میں

آپ یہ سوچ بھی نہیں سکتے
آپ کو کتنا سوچتا ہوں میں

اتنا میں خود کو جانتا بھی نہیں
جس قدر تم کو جانتا ہوں میں

اپنے اندر نہ ڈھونڈیے مجھ کو
اپنے اندر چھپا ہوا ہوں میں

سچ تو یہ ہے کہ مصلحت کے سبب
جھوٹ بھی خوب بولتا ہوں میں

اب تو مجھ کو گلے لگا لیجیے
سارے شکوے بھلا چکا ہوں میں

کون ہے مجھ سے کھو گیا تھا جو
کون ہے کس کو ڈھونڈتا ہوں میں

سچ بتاؤں تو میری جاں تجھ کو
جان سے بڑھ کے چاہتا ہوں میں

اک فقط تیری یاد ہے دل میں
ورنہ سب کچھ گنوا چکا ہوں میں

آج تم یاد کیوں نہیں آئے
آج تم سے بہت خفا ہوں میں

Rate it:
Views: 633
17 Nov, 2009
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL