آپ مسکرا کر چل دئیے پھر حال ہمارا خدا جانے
Poet: Syed Ishtiaq Hussain Kazmi By: Waqas Shah, rawalpindiآپ مسکرا کر چل دئیے پھر حال ہمارا خدا جانے
آہوں میں مشکل سانس ہوئی اے جانے والے تو کیا جانے
جب برق اچانک گرتی ہے وہ حال ہمارا ہوتا ہے
گلشن سے لے کر آشیاں تک جلے نہ گل کو خبر نہ ہوا جانے
تو جس حال میں رکھتا ہےاس حال میں اب ہم رہتے ہیں
اے جان و جگر دل تجھ پہ فدا نہ خطا جانے نہ سزا جانے
یہ کیسی چاہت ہم کو ہوئی نہ خوشی کا پتہ نہ غم کی خبر
محبت میں کیا ملا ہم کو نہ انکار سمجھے نہ عطا جانے
اشتیاق حال دل کس سے کہیں کوئی مسیحا مل نہ سکا
طبیب تو سارے آئے تھے نہ مرض سمجھی نہ دوا جانے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






