آہ ابو غریب کے قیدی کے تاثرات
Poet: Abdul Rouf By: Abdul Rouf, Dera Ghazi Khanکہاں لہو لہو سے یہ پھول سارے
کہاں یہ راکھ راکھ چمن
کہاں وہ پیوند زدہ لباس والوں کی حاکمیت
کہاں زخموں سے چور چور یہ برہنہ بدن
انہیں گرد سفر میں گنوا چکے ہیں کہیں
جن کے پاؤں کی دھول تھی نوید صبح بہاراں
اب نہ زاد سفر ہے پاس اپنے، نہ رخ منزل کا کچھ پتہ ہے
نہ راہ میں کوئی امید یاراں، نہ پیٹھ پیچھے ہیں اشکباراں
زباں پہ قصے رواں دواں ہیں، اکابریں کے فرات جیسے
مگر کردار میں عمل کی کوئی جھلک ہے، نہ کوئی اشارہ
کہاں "اسفل السافلین" کی یہ منزل
کہاں بحر ظلمات کا وہ کنارہ
قول و عمل میں تضاد لئے بالآخر امت مسلم نے
خود اپنے پاؤں تلے عظمت آباء کچل دی
کہاں وہ نجات دہندہ قبلہ اول، کہاں یہ ضمیر فروش
تکریت نے تکریت کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بس ریت بدل دی
خزاں میں بھی جو بہاروں سا مزاج رکھتا ہو
ملا کوئی ایسا چارہ گر، اے چارہ گر نہیں مجھ کو
کوفہ تو آ گیا ہے پھر یزیدیوں کے ہاتھ
غضب یہ کہ حسین بھی کہیں آتا نظر نہیں مجھ کو
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






