آیک اور غزل لکھنے لگا ہوں

Poet: سید سفیر علی شیرازی By: سید سفیر علی شیرازی , Bhalwal

آیک اور غزل لکھنے لگا ہوں
سچ جو ہے آب یاد کرنے لگا ہوں

تیرے عشق کی دیوانگی میں
آب روز عیدیں منانے لگا ہوں

ایک واقع جو کبھی ہوا ہی نہ تھا
اسے کو آج کل سوچنے لگا ہوں

ہم ہیں آوارہ اور بیزار اس قدر کہ
آب گھر کو ہی مقدر سمجھنے لگا ہوں

وہ تیرا روز مرہ میرے حال کا پوچھنا
یقین کیجیے آب اپنا حال دیکھنے لگا ہوں

اس روز، ہاں اس روز کی توسیع محبت
تیرے ان الفاظ کو آب پرکھنے لگا ہوں

حال دل ہوا اب کچھ ایسا کہ بس
خود میں ہی تجھے تلاش کرنے لگا ہوں

اس احمقانہ میں کہ تم کہیں کھو نہ جاؤ
تجھے اب تجھ سے چھیننے لگا ہوں

لکھ رہا آج کل کے حالات پر سفیر
پس اب سے حجر کو آزمانے لگا ہوں

Rate it:
Views: 428
26 Jul, 2022
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL