ا ٹھتی جو انی کا شباب د یکھ کر
Poet: naila rani By: naila rani, karachiا ٹھتی جوا نی کا شباب د یکھ کر
وہ رو د یا تھا میرا خواب دیکھ کر
پلکو ں کے سا ئے میں جی ر ہی تھی
وہ جی ر ہا تھا میرا پیار دیکھ کر
اس کے حسن کو کیا میں مو ضوع بحث لا وں
پر یشا ں تھا وہ مجھے بے قرار د یکھ کر
وہ جدا بھی ہو ا تو کس ادا سے ہو ا
حیران تھی میں ا سکا حو صلہ د یکھ کر
پا و ں تھے آ بلہ پا اور صحرا تھا سا منے
چل ر ہی تھی بس ا سکی با نہو ں کا حصار دیکھ کر
پیا سی تھی میں اور پھر پیاس بجھ گئی تھی
اس کی آ نکھو ں میں ا پنے لیئے آب د یکھ کر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






