ا ک حسین سفر
Poet: By: Hukhan, karachiپھر جب بہار آئی نہ جانے کے لیے
تھا گر میں تنہا،مگر نہ تھی کوئی تنہائی
اس قدر حسیں تھا سفر
ہر لمحہ بجتی تھی شہنائی
تھیں وادیاں گنگناتی
جھرنوں کا نہ کوئی شمار تھا
وادیاں اس قدر حسین
جیسے نویلی دلہن کا پیار بھرا اقرار تھا
صبح مسکراتی ہوئی،شامیں سنہری
شب بھی ایسی کہ
تاروں سے سجی چاندی کا تھال تھا
مجال کہ دل ہوا کبھی اداس
گل رخ تھے رستے سب میرے واسطے
ہائے وہ روز و شب
جیسے کوئی سجی بارات ہو
دھوپ بھی تھی مسکراتی
وادیوں سے تھی نیچے آتی
ابر بھی کمال تھا
ہر سایے کو خود پر کس قدر ناز تھا
ان وادیوں میں کھو گئے ہم
یہ قدرت کا شاہکار تھا
دل شاد تو بس مہوائے جمال تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






