اب اور جینا نہیں ہے

Poet: NS By: NS, Lahore

زہر زندگی کا پینا نہیں
مجھے اب اور جینا نہیں
اے خوشیوں مجھ سے دور ہی رہا کرو
کہ اب مجھے اور غم زدہ ہونا نہیں
اے غموں اپنا سایہ پھیلائے رکھو
کہ خوشیوں کے بادل پر
میرا بسیرا نہیں
میں جانتی ہوں میرے اپنے
مجھے چاہتے ہیں
یوں مجھے دکھ دینا
ان کا مقصد نہیں
دکھ ہمیں خوشیوں کا احساس دلاتے ہیں
ہر دکھ کا مقصد درد دینا نہیں
میں تم سے دور رہ کر جینا چاہتی ہوں
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں
کہ مجھے تم سے پیار نہیں
کیوں ہاتھوں کی لکیروں سے الجھوں میں
جب ان میں اپنا ملن
لکھا ہی نہیں
میں اس لیے بھی حد سے زیادہ
خوش ہوتی نہیں
کیونکہ خوشی مجھے کوئی
راس آتی ہی نہیں
سب کچھ جانتے ہوئے بھی
میں ایسے راستے پر چلنا چاہتی ہوں
جس کی کوئی منزل ہی نہیں
کبھی کبھی مجھے ایسا کیوں لگتا ہے
کہ تو میرے ساتھ ہو کر بھی ساتھ نہیں
بھول تو خیر اک دن تم نے بھی جانا ہے
پہلے سب ہی کہتے ہیں
نہیں میری جان ایسا نہیں
دل کی دھڑکن رک کیوں نہیں جاتی
جب جینے کی کوئی آس ہی نہیں

Rate it:
Views: 623
22 Feb, 2010
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL