اب اپنے دل پے کہاں اختیار رہتا ہے
Poet: پلک محروم By: PALAK-MAHROOM, India, Bihar, Gopalganjاب اپنے دل پے کہاں اختیار رہتا ہے
میری آنکھوں کو تیرا انتظار رہتا ہے
آؤگے مڑکے کبھی پھرسے میری راہوں میں
میرے دل کو یہ اعتبار رہتا ہے
کیسے جی پائیں گے بچھڑ کے ہم تم سے
بس یہی سوچ کے دل بے قرار رہتا ہے
کچھ بھی یاد نہیں سوائے تیرے مجھے
میری یادوں کو بس تیرا بچار رہتا ہے
تیری تلاش میں ہی اٹھتی ہیں، اپنی نظر
یہ دل تمھارا ہے، تم پے نثار رہتا ہے
بھول کے بھی نہ بھولا پائیں ہیں یادیں انہیں
ہر گھڑی آنکھوں میں بس چہرائے نگار رہتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






