اب بس اس سے ملنے کی خواہش نہیں رہی
Poet: شعیب نیازی فانی By: Shoaib Niazi, Faisalabadاب بس اس سے ملنے کی خواہش نہی رہی
اور ایسا بھی نہیں کہ اس کو بھول گیا ہوں
تیرے بعد کتنے کانٹوں بھرے رستوں سے گزرا ہوں
اور یوں بھی نہی ارادہ ترک کر گیا ہوں
میں تا عمر تیری آنکھوں کا دیوانہ بنا رہا
اور ایسا بھی نہیں کہ تیرا مسکرانا بھول گیا ہوں
تو نے جس قدر بے رخی سے ٹھکرایا ہے ہمیں
باوجود اس کے تیرا ادب نہیں بھلایا ہوں
فانی تیرے بعد کون اتنا یاد کرے گا اس کو
ماتم کرے گا کہ حسن ہوں سراہا جانا مانگتا ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






