اب تم ۔ تم نہیں میری جان ہو تم
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaمیں تجھ کو یاد کرنے کے سوا
اب کچھ بھی نہیں کرتی
کب ہوتی ہیں صبح ، کب ڈھلتی ہیں شام
میں وقت کو اب خود پے پابند نہیں کرتی
میری دعاوں میں اک تم ہی خاص دعا ہو
میں اپنی دعاوں کو کبھی خود سے الگ نہیں کرتی
اب تم ۔ تم نہیں میری جان ہو تم
میں خود کو تم سے ُجدا اپنا تصویر نہیں کرتی
تمہارے راہوں میں ہوسکتا ہیں
ہوں ہزاروں مجھ جیسے لکی
مگر جس مقام پے ہو تم میرے لیے
میں ُاس مقام پے کسی کی بات بھی نہیں کرتی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






