اب تو عادت ہی بن گئی ہے اس کی
Poet: درشہوار By: Suhaira Hassan, Attockاب تو عادت ہی بن گئی ہے اس کی
جب بھی دیکھتا ہے آنکھ مار دیتا ہے
گر نہ سنوں میں بات اس کی کبھی
چیخ چیخ کے گلا اپنا پھاڑ دیتا ہے
زرا سی توجہ جو مل جاۓ اس کو
تو جان تک اپنی وہ نثار دیتا ہے
بہت ہی بھولا ہے عقل کا اندھا بھی
زرا سی بات پہ غصہ میں جھاڑ دیتا ہے
کبھی جو پیار سے دیکھ لوں اس کو
خود ہی نظر اپنی وہ اتار دیتا ہے
مدتوں رہتا ہے سکوت اس کے اندر
مدتوں بعد نہ جانے کیوں پچھاڑ دیتا ہے
ہنستا ہے تو ہنستا ہی چلا جاتا ہے لگاتار
روتا ہے تو خود سر دیوار میں مار دیتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






