اب تو وعدہ بھی کچھ نہیں لگتے

Poet: سمیعہ سہیل By: Samia Saad, Sargodha

اب تو وعدے بھی کچھ نہیں لگتے
وہ ارادے بھی کچھ نہیں لگتے
جب سے بدلا ہے تو نے خود کو
ہم کو سناٹے بھی کچھ نہیں لگتے
صاف کہہ دیتے کہ تم کو جانا ہے
صاف کہہ دیتے کہ تم کو جانا ہے
اب تم ہمارے کچھ نہیں لگتے
اب کے شکوہ کریں بھی تو کس سے کریں
وہ جو ہمارے تھے اب نہیں لگتے

چاند تاروں سے بھی اب میں پوچھ بیٹھی ہوں
جو ہماری نہیں لگتے، کیا اب وہ تمہارے بھی نہیں لگتے
سمی درد اٹھتا ہے اب کہ اس سینے میں
دل کو سمجھا ہی لیتے ہیں کہ وہ بدلیں ہیں
جو ہمارے نہیں لگتے اے دل اب وہ تمہارے بھی نہیں لگتے

Rate it:
Views: 1906
10 Feb, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL