اب تو کرنی تم غلامی چھوڑ دو
Poet: اےبی شہزاد میلسی By: اےبی شہزاد میلسی, Mailsiاب تو کرنی تم غلامی چھوڑ دو
چمچہ گیری میزبانی چھوڑ دو
دونوں ہاتھوں سے رہے ہو لوٹ تم
گھر میں بیٹھو حکمرانی چھوڑ دو
بیچتے ہو مال کھا کر قسمیں تم
اب چلو قسمیں اٹھانی چھوڑ دو
تیرا کچھ بھی اب نہیں ہوں لگتا میں
جان میری مہربانی چھوڑ دو
کیوں اذیت تم کسی کو دیتے ہو
جھوٹی تم باتیں بنانی چھوڑ دو
تم نے لوٹا ہے مرے تو دیس کو
ظلم سے دولت کمانی چھوڑ دو
تم غریبوں کا لگے حق کھانے ہو
تم سیاست ہی دکھائی چھوڑ دو
تم کو اب انصاف ملنا ہی نہیں
تم قلم اپنی چلانی چھوڑ دو
جو لکھا ہے رب نےٹل سکتا نہیں
اپنی قسمت آزمانی چھوڑ دو
بذلہ سنجی میں نے دیکھی ہے تری
یار اب تو. بد گمانی چھوڑ دو
مار ڈالا بے گنہ کو تم نے کیوں
خود کو کہنا مسلمانی چھوڑ دو
نت کہانی تم بناتے ہو نئی
اپنا فرقہ قادیانی چھوڑ دو
وقت ضائع کر رہے شہزاد
اب نئی غزلیں بنانی چھوڑ دو
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






