اب تیرا ھاتھ میں دے دوں کسی کے ھاتھ میں
Poet: saba hassan By: saba hassan, Lahoreاب تیرا ھاتھ میں دے دوں کسی کے ھاتھ میں
ورنہ مجھے بھی کم نہ تھا شوق تجھے گلے لگانے کا
ھم تو سمجھے تھے ساتھ ھے ساتھ رھے گا عمر بھر
اب عزم عجب ھے ھمارا...... الگ منزلوں تک جانے کا
کس طرح سمیٹوں میں ...........اکیلی خشک پتوں کو
کتنا سوق تھا مجھے ........ پتوں کے سینے جلانے کا
آ ..................! اپنی منزلوں کی حد بندی کر دیں ھم
ظالم تیرا تو شوق ھے ...................گھرنئے بنانے کا
اک یہ نیہں تو کیا ...........ھزاروں راھیں ھیں یہاں
کون بند کر سکا ............صباء کوشخص اس زمانے کا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






